7

اربابِ اختیار سے توجہ کی درخواست ÷÷ بلال کوثر میکن

چکوال سے 32 ارب کا ریونیو
سیمنٹ فیکٹریوں ،معدنیات ، انکم ٹیکس اور سیل ٹیکس کی مد میں اکٹھا ھوتا ھے چکوال شہر و دیگر علاقہ جات جو براہ راست متاثر ہوئے ہیں ان کو صاف پینے کی واٹر سپلائی سکیموں اور دیگر فلاحی کاموں کی اشد ضرورت ھے اس فنڈ سے ضلع چکوال کا ویلفیئر فنڈ جو بین الاقوامی قانون کے مطابق علاقے کا حق ہے کیوں نہیں دیا جا رہا. جب کہ دو بہت بڑی تہذیبوں کے مقدس مقامات کٹاس راج ہندوؤں کےلے اور مسلمانوں کے مرشد سیدن شاہ شیرازی کا مزار بھی ادھر ہی ہے اور ان دونوں سے منسوب مقدس چشمہ خشک ہے
کیا کسی بھی باشعور اور عوامی راۓ کے احترام والے ملک میں یہ ممکن تھا ہر گز نہیں. ہم ظالم لوگ ہیں خود اپنے ہاتھوں سے وادی کہوں کو تباہ ہوتا دیکھ رہے ہیں.
ہے کوٸی جو آواز سنے اور عملی اقدام کرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں